حضرت امام حسین ؓ کی راہِ حق میں ثابت قدمی| Hazrat Imam Hussain ki Rah e Haq mein Sabit Qadmi

حضرت امام حسینؓ    کی راہِ حق میں ثابت قدمی

تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری  ۔لاہور

دُنیا میں جب بھی ثابت قدمی کی داستانیں لکھی گئیں ان سب داستانوں میں صرف واقعہ ٔ کربلا ہی صبر و ہمت ، استقامت و ثابت قدمی اور عشق کی وہ واحد داستان ہے جس کی نظیر نہ آج تک کسی کو ملی اور نہ ہی تاقیامت کسی کو ملے گی۔ واقعہ ٔ کربلا عشق و وفا ، صبرو یقین اور استقامت و ثابت قدمی کی وہ داستان ہے جسے مولائے کُل ، نورِ ھُو جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیارے نواسے، شیر ِ خدا کے لاڈلے اور زہرا بتولؓ کے جگر گوشہ امام عالی مقام سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے اپنے نورانی لہو سے رقم فرمایا۔

چرچا ہے جہاں میں تری تسلیم و رضا کا
زیبا ہے لقب تجھ کو امام الشہدا کا
نذرانۂ جاں پیش کیا دین کی خاطر
تو باب نیا کھول گیا صدق و صفا کا
حق گوئی و ثابت قدمی تیری مثالی
خون تیری رگوں میں تھا رواں شیرِ خدا کا

حضرت امام حسین ؓ کی ذاتِ پا ک مجسم عشق، وفا و ثابت قدمی کا پیکر تھی۔ آپؓ کی پیدائش سے ہی ہر عاشق ِ رسولؐ جانتا تھا کہ اس معصوم شہزادے نے دین ِ محمدیؐ (فقر) کو اپنے پاکیزہ لہو سے بقا دینی ہے۔ قربان جائیں ان پاکیزہ اہل ِ بیتؓ کے جذبۂ عشق ِ الٰہی پر کہ جنہوں نے تمام تر اختیارات اور تصرفات ہونے کے باوجود رضائے الٰہی کو ہی منتخب کیا اور ثابت قدم رہے۔ روایت ہے کہ آپؓ کی شیر خوارگی کے ایام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُم الفضلؓ بنت ِ حارث کو آپؓ کی شہادت کی خبر دی۔
٭ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’مجھے جبرائیل ؑ نے خبر دی کہ میرے بعد میرا فرزند حسین ؓ زمین طف میں قتل کیا جائے گا اور جبرائیل ؑ میرے پاس یہ مٹی لائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ (حسین ؓ کی) خوابگاہ (مقتل) کی خاک ہے۔‘‘ (ابن ِ سعد و طبرانی)
٭ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میری دولت سرائے اقدس میں وہ فرشتہ آیا جو اس سے قبل کبھی حاضر نہ ہوا تھا۔ اس نے عرض کیا کہ آپؐ کے فرزند حسین (رضی اللہ عنہٗ ) قتل کیے جائیں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چاہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس زمین کی مٹی ملاحظہ کراؤں جہاں وہ ؓ شہید ہونگے۔ پھر اس نے تھوڑی سرخ مٹی پیش کی۔‘‘ (امام احمد)
ان تمام واقعات کے باوجود کیا عظیم عزم و استقلال اور ثابت قدمی تھی کہ نہ تو مالک ِ کُل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں اپنے پیارے نواسے حضرت امام حسینؓ کے لیے امن و سلامتی اور اس مشکل ترین آزمائش سے محفوظ رہنے اور دشمنوں  کے برباد ہونے کی دعا فرمائی، نہ ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض فرمائی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میرے اس فرزند کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دُعا فرما دیجیے اور نہ ہی ان کی پاکیزہ والدہ محترمہ نے جو بذاتِ خود سلطان الفقر ہیں، جن کی زبان مبارک ’کُن‘ ہے، نے اس دردناک سانحہ کو روکنے کی کوئی کوشش کی۔ انہوں نے بھی اپنے پیارے لاڈلے کے لیے رضائے الٰہی کے حصول کو ہی ترجیح دی۔ الغرض سب شہادت کی خبر سنتے ہیں، شہرۂ عام ہو جاتا ہے لیکن بارگاہِ رسالت ؐمیں کسی طرف سے دعا کی درخواست پیش نہیں ہوتی۔ حقیقت تو یہ ہے تمام عاشقانِ الٰہی کا ایک ہی نظریہ تھا کہ ایسے موقع پر جان سے دریغ جانباز مردوں کا شیوہ نہیں، دعا ئیں کی گئیں کہ الٰہی یہ معصوم، لاڈلا فرزند مقامِ جفا و وفا میں ثابت قدم رہے۔ عشق ِ الٰہی میں سرشار فقر ِ محمدیؐ کی بقا کی خاطر اس شہزادے کے قدم مبارک پیچھے نہ ہٹیں۔
شفیق نانا جا ن سرورِ دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، بہادر والد شیر ِ خدا جناب حضرت علی کر م اللہ وجہہ اور پاکیزہ والدہ محترمہ خاتونِ جنت سلطان الفقر اوّل سیّدہ فاطمتہ الزہرا ؓ نے امام عالی مقامؓ کی پرورش فقر ِ محمدیؐ کی تعلیمات کی روشنی میں اس انداز سے فرمائی کہ آپؓ کی ذاتِ اقدس میں فقر ِ محمدیؐ رچ گیا۔عشق ِ الٰہی، وفا اور رضائے الٰہی کا حصول آپؓ کی ذاتِ اقدس کا خاص الخاص طرۂ امتیاز تھا۔ یہی عشق ِ الٰہی تھا جس نے آپؓ کو بچپن سے لیکر جوانی تک اور جوانی سے لیکر میدانِ کربلا میں شہید ہونے تک کبھی بھی اپنے عظیم مشن (فقر ِ محمدیؐ کی خاطر اپنی جان قربان کرنے) سے منہ نہیں موڑنے دیا اور تادمِ آخر ثابت قدم رکھا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقر میں تمام اہل ِ بیتؓ کو خود سے فرمایا اور کہا فاطمہؓ مجھ سے ہے ، علی ؓ مجھ سے ہے، حسن ؓ مجھ سے ہے لیکن حضرت امام حسین ؓ کے متعلق فرمایا ’’حسین ؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓ سے ہوں۔‘‘ خود کو حضرت امام حسین ؓ سے قرار دینے میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ جب اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو حضرت امام حسین ؓ کی قربانی سے تبدیل کر دیا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہیـ:

وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمِo (سورۃ الصافات۔107)
ترجمہ:اور ہم نے اس کو ذبح عظیم سے تبدیل کر دیا۔‘‘
اب یہاں پر ’’ذبح ِ عظیم‘‘ سے مراد ’’دنبہ‘‘ ہر گز نہیں ہے جو حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ آگیا تھا بلکہ یہ ذبح ِ عظیم حضرت امام حسین ؓ کی ذاتِ مبارکہ ہے جن کی کربلا میں قربانی سے اس ذبح ِ عظیم کی تکمیل ہوئی جو حضرت اسماعیل ؑ کی ذات سے شروع ہواتھا جیسا کہ اقبال ؒ فرماتے ہیں  ـ :

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیل ؑ

پس حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی قربانی سے تبدیل کر دی گئی جس سے آلِ اسماعیل کو بقا ملی اور بنی اسماعیل میں آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود کو ’’حسینؓ سے‘‘ اس لئے قرار دیا کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی سے ہی دین ِ محمدی اور فقر ِ محمدی کو وہ حیاتِ نو ملی جسے تا قیامت زوال نہیں۔
جب حضرت امام عالی مقامؓ کی عمر مبارک56 برس ہوئی تو وہ گھڑی بھی آن پہنچی جس اہم فرض کی ادائیگی کے لیے خاتونِ جنت سیّدہ فاطمۃالزہراؓ کے لاڈلے اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے نورِ نظر کو منتخب کیا گیا تھا، وہ گھڑی جس میں دین ِ محمدیؐ (فقر) کو تاقیامت دوام بخشا جانا تھا۔ 40ھ میں حضرت علی کر م اللہ وجہہ کی شہادت کے بعد حضرت امیر معاویہ ؓ نے بیس برس تک کامیابی سے خلافت سنبھالی۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔ ولی عہد بنتے ہی یزید لعین نے اپنے گرد و نواح کے لوگوں سے بیعت لینا شروع کر دی تھی۔ یزید لعین فطرتاً بے دین، سرکش، متکبر ، عیاش اور زانی تھا۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو گا کہ جہاں حضرت امام عالی مقامؓ مظہر ِ ذاتِ رحمن تھے وہیں یزید لعین مظہرِ شیطان تھا، حضرت امام عالی مقامؓ اُمت ِ محمدیہ کے لیے رحمت تھے تو یزید لعین اسی اُمت کے لیے زحمت تھا۔ آپؓ کی ذاتِ اقدس فقر ِ محمدی ؐ کو تاقیامت حیاتِ دوام بخشنے والی تھی تو یزید لعین کو فقر کے نام سے بھی واقفیت نہیں تھی۔ اہل ِ شام سے بیعت لینے کے بعد یزید لعین نے اطراف و جوانب میں عُمال کو خطوط بھیجے تاکہ جن لوگوں نے اب تک اس کی بیعت نہیں کی تھی اُن سے بیعت لی جائے اس ضمن میں اس نے مدینہ طیبہ کے گورنر ولیدؓ بن عتبہ کو خصوصی طور پر خط لکھا کہ وہ حضرت امام حسین ؓؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے بیعت لے اور اگر یہ حضرات نہ مانیں تو بیعت کے معاملے میں ان پر سختی کرے۔ حضرت امام عالی مقامؓ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ گئے تھے کہ اگر وہ مدینہ طیبہ میں رُکے تو انہیں بیعت کے لیے مجبور کیا جائے گا اور آپؓ اس غیر شرعی بیعت کو کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ پس آپؓ نے اپنے تمام خاندان سمیت رات کے اندھیرے میں مکہ مکرمہ کی جانب ہجرت فرمائی۔یہاں بھی سفر کی سختیاں و مصائب آپؓ کے پائے استقلال میں لغزش نہ لا سکیں۔ کوفہ والے اہل ِ بیت ؓ کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے جب انہیں خبر ملی کہ حضرت امام حسینؓ نے یزید لعین کی بیعت سے صاف انکار کر دیا ہے تو انہوں نے صلاح و مشورہ کے بعد آپؓ کو بلاوے کے خطوط لکھنا شروع کر دئیے جن میں  آ پؓ کو اپنا امام تسلیم کرنے اور آپؓ کے دست ِ اقدس پر بیعت ہونے کی یقین دہانی کے وعدے کیے گئے تھے۔ اس پرحضرت امام عالی مقامؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو حقیقت کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ بھیجا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بارہ ہزار لوگوں نے حضرت مسلم بن عقیل ؓ کے دست ِ اقدس پرحضرت امام عالی مقامؓ کی بیعت کر لی پھر ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ یہ تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ نے جب لوگوں کا یہ جوش و عقیدت دیکھا تو حضرت امام حسینؓ کو خط لکھ کر تمام تر صورتحال سے آگاہ فرمایا۔ ادھر شام میں جب یزید لعین کو حضرت مسلم بن عقیلؓ کے دست ِ اقدس پر جوق در جوق لوگوں کے بیعت ہونے کی خبر ملی تو اس خبیث نے تمام قبیلوں کے روسا اور امرا کو اپنے دربار میں بلایااور انہیں بڑے انعام و کرام اور معاوضوں کی پیش کش کی اور اس کے بدلے میں حضرت مسلم بن عقیلؓ سے غداری طلب کی جسے بے وفا اور دغاباز کوفیوں نے قبول کر لیا۔ بعد ازاں دھوکے سے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو شہید کر دیا گیا اور ان کے دو معصوم شہزادوں محمد اور ابراہیم(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کو بھی بڑی بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔
مکہ میں جب حضرت امام حسینؓ کو حضرت مسلم بن عقیلؓ کا خط ملا تو آپؓ نے کوفہ جانے کی تیاری شروع فرما دی۔ آپؓ کو کچھ جلیل القدر صحابہؓ نے کوفہ جانے سے روکنے کی کوشش بھی کی اور سمجھایا کہ کوفہ والوں نے آپؓ کے والد محترم کے ساتھ بے وفائی کی تھی اور انہیں کسمپرسی کی حالت میں شہید کر دیا تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حسب ِ سابق آپؓ سے بھی بے وفائی کر جائیں۔ حضرت امام عالی مقامؓ نے فرمایا ’’اب مجھ پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور دعوتِ حق کی خاطر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ وہ لوگ بے وفا ہیں یا وفا دار مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میں قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیشی کے وقت اس سوال سے ڈرتا ہوں کہ تجھے دعوتِ حق ایسے وقت میں دی گئی تھی جب ظلم اور بربریت کا بازار گرم تھا، سنت ِ نبویؐ کے خلاف سرکشی ہو رہی تھی، دین ِ اسلام میں بدعات و خرافات کو رواج دیا جا رہا تھا، لوگوں کے حقوق سلب ہو رہے تھے، اسلامی شعار نشانۂ تضحیک بن رہے تھے، اسلامی حکومت و قانون کا تصور مذاق بن کر رہ گیا تھا، ایسے وقت میں تُو نے اس ظلم کے خلاف جہاد کا عَلم بلند کیوں نہ کیا؟‘‘
چنانچہ حضرت امام عالی مقام ؓ نے سفر ِ عراق کا ارادہ فرمایا ۔ 3ذوالحجہ 60ھ کو حضرت امام حسین ؓ نے اپنے اہل ِ بیتؓ، خدام اور اصحابؓ کل بہتر (72) نفوس کے ہمراہ عراق کی راہ اختیار فرمائی۔ حضرت امام حسین ؓ ابھی راستہ میں ہی تھے کہ انہیں کوفیوں کی بد عہدی اور حضرت مسلم بن عقیل ؓ کی شہادت کی خبر مل گئی۔ خبر پہنچانے والے نے کہا ہم آپؓ کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپؓ اپنی اور اپنے گھر والوں کی فکر کریں  اور یہیں سے لوٹ جائیں  کیونکہ کوفہ میں کوئی بھی آپؓ کا مخلص اور خیر خواہ نہیں  ہے بلکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ جو لوگ آپؓ کو دعوت دینے والے ہیں  وہی آپؓ کے دشمن ہو جائیں گے۔اس پر آپؓ کے ایک ساتھی نے جوش میں آکر کہا ’’خدا کی قسم ہم سر زمین ِ کوفہ کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک اپنے بھائی مسلم بن عقیلؓ کے خون کا بدلہ نہ لے لیں یا ان ؓ کی طرح شہید نہ ہو جائیں۔‘‘ حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا’’ان لوگوں کے بعد زندہ رہنے میں کوئی بھلائی نہیں۔‘‘ (البدایہ والنھایہ)
رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر یہ مختصر سا حسینی قافلہ اپنی جان ہتھیلی پر سجائے فقر ِ محمدیؐ کا بول بالا کرنے لیے آگے بڑھتا رہا ۔ یہ محرم کی 2 تاریخ اور 61ھ تھی جب یہ حسینی قافلہ مختلف مصائب و تکالیف برداشت کرتے ہوئے کربلا کے مقام پر پہنچا۔ کیا شان و عظمت اور جذبہ عشق ِ الٰہی ہے اس حسینی قافلے کا جس نے حق کی خاطر اپنا وطن چھوڑا، سفر کی اذیتیں اور مصائب کو صبرو استقامت سے برداشت کیا اور پھر 2محرم الحرام سے لے کر 10محرم الحرام تک دِل دہلادینے والی آزمائشوں سے گزرے جس کا تصور بھی کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ جنتی حسینی قافلہ محض 72 نفوس پر مشتمل تھا جس میں چھوٹے بچے، پاک بیبیاں اور بوڑھے اور بیمار بھی شامل تھے اور ان کے مقابلے کے لیے یزید شیطان کے حامیوں نے 22 ہزار کی فوج جمع کر لی اور ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے۔ دریائے فرات کا پانی بند کر دیا، خوراک کی ترسیل نہ تھی، تپتی ریت گرمی کی شدت۔ نہ صرف اس قافلے کو زبردستی اس میدان میں روکا گیا بلکہ حضرت امام عالی مقام ؓ پر یزید لعین کی بیعت کرنے کے لیے ہر طرح سے دباؤ ڈالا گیا۔ جب کوفی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے تو جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن حضر ت امام عالی مقام ؓ کی ہمت،صبر اور ثابت قدمی کا کوئی ثانی نہیں جنہوں نے نہ صرف اپنا تمام خاندان بلکہ اپنی جان کو بھی راہِ حق پر قربان کر دیا مگر اپنے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین ِ فقر پر آنچ تک نہ آنے دی۔

جب کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو!
ڈٹ جاؤ حسینؓ کے انکار کی طرح

بلاشبہ سیّدنا حضرت امام حسینؓ نے اپنا گھرانا لُٹانا اور اپنا خون بہانا منظور کر لیا مگر مسلمانوں کی تباہی و بربادی اور دین ِ محمدیؐ (فقر ِ محمدیؐ) کی عزت میں فرق آنا برداشت نہ کیا۔

بشر کا ناز، نبوتؐ کا نورِ عین حسینؓ
جنابِ فاطمہ زھراؓ کے دِل کا چین حسینؓ
کبھی نماز سے پوچھا جو رنج و غم کا علاج
کہا نماز نے بے ساختہ حسینؓ حسینؓ

بے شک سیّد الشہدا حضرت امام حسینؓ نے اپنے پیارے نانا ، خاتم النبیین، رحمت اللعالمین جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین ِ فقر کے گلشن کو اپنے پاکیزہ نورانی لہو سے ایسا سیراب فرمایا کہ تاقیامت اس گلشن میں آنے والے طالبانِ مولیٰ اس سے سیراب ہوتے رہیں گے۔ حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ اقدس سے ہی طالبانِ مولیٰ کو ایفائے عہد، راہِ حق میں جرأت و بہادری ،رضائے الٰہی کے حصول میں حقیقی وفا و قربانی اور شدید سخت آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ جیسے عظیم درس ملتے ہیں جو کسی بھی علمائے ظاہر سے نہیں مل سکتے۔
بحیثیت طالب ِ مولیٰ ہر مرید کو جان لینا چاہیے کہ اس کی زندگی میدانِ کربلا کی طرح ہوتی ہے جہاں اسے ہر وقت یزیدی خواہشات اور دنیا و شیطان کے باطل لشکروں سے مقابلہ کرنے کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور پھر بالآخر کامیاب وہی طالب ہوتا ہے جو اپنی جان و مال،آرام و سکون اور گھر بار صبرو عشق سے مالک (مرشد) کے حوالے کر دے۔
لہٰذا جو بھی اہل ِ بیتؓ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اسے کشادہ دلی سے نہ صرف راہِ فقر اختیار کرنی چاہیے بلکہ میدانِ کربلا میں حضرت امام عالی مقامؓ اور آپؓ کے جانثار ساتھیوں کی وفا و ثابت قدمی کو بھی ہر وقت ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ ایسا طالب ِ مولیٰ ہی اہل ِ بیتؓ کی محبت کے دعویٰ میں سچا ثابت ہو سکتا ہے ورنہ جھوٹے دعوے تو غدار کوفیوں نے بھی بہت کیے تھے۔
اللہ پاک کی بارگاہ میںالتجا ہے کہ وہ ہمیں اہل ِ بیت ؓ سے سچی محبت و عقیدت نصیب فرمائے اور ہمیں اس غلامی میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین
استفادہ کتب:
’’سیّد الشہدا حضرت امام حسین ؓ اور یزیدیت، تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں