حضرت محمدؐ کا طالبانِ مولیٰ کو عطائے فقر | Hazrat Mohammad Ka Taliban e Maula ko Atta-e-Faqr

حضرت محمدؐ کا طالبانِ مولیٰ کو عطائے فقر

تحریر: مسز سحر حامد سروری قادری۔ لاہور

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیا کرام علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا اور ہر نبی کو اپنی کسی نہ کسی صفتِ خاص سے متصف فرما کر اس دنیا میں بھیجا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کو اس ظاہری دنیا میں مبعوث فرمایا تو اپنی تمام تر صفات و خصوصیات سے مزین فرما کر بھیجا۔ اللہ پاک نے اپنی خوشی و ناراضگی کو اپنے محبوبؐ کی خوشی و ناراضگی سے مشروط فرمایا۔اپنے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کامل تصرف عطا فرماتے ہوئے اپنے خزانوں کا قاسم یعنی تقسیم فرمانے والا قرار دیا۔ چونکہ محبوب سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا جاتا اس لیے اللہ پاک نے اس تمام کائنات اور اس کے خزانوں اور مخلوقات پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اختیارِ کُلی عطا فرما دیا کہ جس کو جو چاہیں اور جیسے چاہیں عطا فرمائیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ایسے سخی ہیں کہ اپنے در پر آنے والے کسی بھی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے کیونکہ آپ رحمتہ اللعالمین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہدایت کی طلب کرنے والے ہمیشہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور راہِ شریعت پر کاربند رہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عطا ہے۔
کائنات کی سب نعمتوں سے بڑی اور عظیم نعمت فقر ہے۔ جب حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام شب ِ معراج اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عشق، معرفت، وصال، قرب اور دیدار کی کوئی انتہا نہ رہی تو آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقر کا تاج پہنا اور خود فقر کا نور ہو گئے۔ اپنی اُمت سے محبت کا یہ عالم تھا کہ قرب کے اس مقام پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی اُمت کو فراموش نہ فرمایا اور بطور تحفہ فقر کی عظیم نعمت کو اپنی اُمت کے لیے اللہ تعالیٰ سے طلب کر لیا جو کہ طالبانِ مولیٰ پر آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا احسانِ عظیم ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
فقر کے بارے میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
٭اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

فقرحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل راہِ حق کا وہ سفر ہے جس کی منزل خود اللہ کی ذات ہے۔ فقر قرب و دیدار کی راہ ہے جو محض آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عطا ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں منظور ہوگیا وہ منزلِ مراد یعنی فقرپا گیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آقائے نامدار رحمتہ اللعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوتمام انبیا و رسل پر فضیلت بھی اسی فقر کی بنا پر دی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود ارشاد فرمایا:
٭ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّوْا بِہِ عَلٰی سَائِرِ الْاَنْبِیَآءِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر کی ہی بدولت مجھے تمام انبیا اور مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔

واقعہ معراج کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے صدقِ دل سے اللہ کا قرب و وِصال طلب کرنے والوں اور اس قرب کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو فقر کی دولت سے مالا مال فرما دیا۔ جن صحابہؓ کی طلب محض اللہ کی ذات تھی اور جنہوں نے اپنی زندگیاں اور اپنا مال و متاع سب کچھ اللہ کے محبوب پر نچھاور کر دیا تھا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بطور قاسم اللہ کے خزانوں میں سے بہترین اور سب سے قیمتی خزانہ فقر انہیں عطا فرمایا۔ حدیث ِ مبارکہ ہے:
٭اَلْفَقْرُ کَنْزٌ مِنْ کَنُوْزِ اللّٰہِ تَعَالٰی
ترجمہ: فقر اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری طور پر اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد فقر کیسے عطا ہوتا رہا اور آج کے دور میں کیسے عطا ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل ِ بیت اور وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہوں نے خود کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کے سانچے میں ڈھال لیا تھا اور خود صاحبِ فقر بن چکے تھے ان کے توسط سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طالبانِ مولیٰ کو نعمتِ فقر سے سرفراز فرمایا۔ اس لیے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہل ِ بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا طالبانِ مولیٰ پر احسانِ عظیم ہیں۔ اہلِ بیتؓ کی مکمل زندگی فقر ہے۔ ان کی تعلیمات ایک طالب ِ مولیٰ کے لیے مینارہ نور ہیں۔ اہلِ بیتؓ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہیں اس لیے ان کا وجود بھی فقر ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی حیات بھی ایک طالبِ مولیٰ کے لیے فقر کے سفر میں بہت ممد و معاون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مبارک ہے ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کسی کی بھی پیروی کرو گے فلاح پاؤ گے۔‘‘ کیونکہ ان کی تربیت خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمائی تھی اور وہ اہلِ بیتؓ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سب سے زیادہ قریب تھے۔
اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد صاحبِ فقر ہستیاں مختلف صورتوں میں ہر دور میں ظاہر ہوتی رہیں جو طالبانِ مولیٰ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ اقدس تک پہنچاتے رہے اور اس بارگاہِ عظیم سے فقر کی دولت و نعمت سے بہرہ مند فرماتے رہے۔ یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فیض تاقیامت جاری رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر اُمتی اگر صدقِ دل سے راہِ حق کا متلاشی ہو گا تو اسے ضرور نوازا جائے گا۔ اب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روحانی وارثین اور صاحبِ فقر ہستیوں کی پہچان کیا ہے؟ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہونے کی بدولت لوگوں کو راہِ حق کا پیغام دیتے ہیں اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ عطا کر کے مجلسِ محمدیؐ کی حضوری دلاتے ہیں۔
وہی طالبانِ مولیٰ کے لیے مرشد کامل اکمل کی مثل ہوتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی درج ذیل حدیث مبارکہ میں بھی مرشد کامل اکمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
٭الرفیق ثم الطریق
ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلوـ۔

آج کے دور میں مرشد کامل اکمل کے ذریعے ہی آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی امت کی راہنمائی فرما رہے ہیں کیونکہ جیسے سیڑھی کے بغیر چھت پر نہیں چڑھا جا سکتا اسی طرح استادِ کامل کے بغیر اور ادب و آداب سیکھے بغیر آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں ہم گناہگار خطاکار لوگ جانے کا تصور بھی کیسے کر سکتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خزانۂ فقر مردِ کامل کے سینے میں رکھ دیا ہے، یہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا احسان نہیں تو پھر اور کیا ہے کیونکہ مرشد کامل کے بغیر کوئی ہزار برس بھی عبادتیں کرتا رہے، ریاضت کے پتھر سے سر پٹختا رہے وہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خزانہ فقر کو نہیں پا سکتا کیونکہ ہم پر ہمارا نفس اور شیطان بھی حملہ کرتے ہیں جن سے محض کو ئی انسانِ کامل ہی بچا سکتا ہے۔ ظاہر سے باطن کا سفر ظاہری پیر ِ کامل سے باطنی پیر ِ کاملؐ تک ہی ممکن ہے۔ عشق ِ مجازی سے ہی عشق ِ حقیقی ممکن ہے۔
آج کے دور میں مرشد کامل اکمل کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب کوئی اللہ کی معرفت و فقر کی طلب میں ان کے در پر حاضر ہوتا ہے تو اسے ذکر و تصور اسم اللہ ذات عطا کیا جاتا ہے اور راہِ حق پر ترقی کے بعد اسمِ محمد کی نعمت عطا کر دی جاتی ہے۔ جب طالب خلوصِ دل سے مرشد کامل اکمل کی راہنمائی میں اسم اللہ ذات اور اسم ِ محمدؐ کا تصور کرتا ہے تواسے مجلسِ محمدیؐ کی حضوری حاصل ہوتی ہے۔ وہ باطنی طور پر آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؐ کے صحابہؓ سے ملاقات کرتا ہے۔ اس مجلس میں صبر و استقامت، ادب و حیا اور مکمل اطاعت و پیروی کے ساتھ دنیاوی تعلقات کو قطع کر کے مستقل حاضری کے بعد ہی ایک طالب اس لائق بنتا ہے کہ اسے محبوبیت کے مراتب حاصل ہوں اور اللہ کی معرفت و وِصال نصیب ہو۔ اسی مجلس کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ جو شخص اخلاص اور یقین کے ساتھ آپؐ کی بارگاہ میں فریاد کرے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مع لشکر ِ صحابہؓ ، امام حسنؓ و امام حسینؓ تشریف لاکر ظاہری آنکھوں سے زیارت کراتے اور مدد فرماتے ہیں۔‘‘ (عقل ِ بیدار)
اوپر کی گئی گفتگو سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ فقر محض عطائے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے اور یہ راہ سراسر باطن کا معاملہ ہے لیکن ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس راستے پر بھی روپے پیسے اور شہرت کے لالچ میں یا اپنی زندگی کی ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر فقر کی چادر اوڑھ کر معصوم اور سیدھی سادی عوام کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ یاد رکھئے ! جو شخص فقر ِ محمدی جیسی نعمت کو عطائے محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ کی بجائے خود سے اختیار کر لے وہ کذاب ہے اور اسے فقر ِ اضطراری کہتے ہیں۔ فقرِ اضطراری والا دربدر بھیک مانگتا پھرتا ہے اور عنایت ِ حق سے محروم رہتا ہے۔ فقر ِ اضطراری ہی فقرِ مُکبّ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کا فرمان ہے:
٭ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فَقْرِ الْمُکِبّ
ترجمہ: میں منہ کے بَل گرانے والے فقر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

اس کے برعکس وہ فقر جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا، فقرِ اختیاری کہلاتا ہے۔

موجودہ دور میں عطائے فقر

موجودہ دور میں ایک ایسے ہی ولی ٔ کامل موجود ہیں جو عین قدمِ محمدؐ پر ہیں اور صاحب ِ فقر ہونے کی بدولت دن رات طالبانِ مولیٰ میں فقرِ محمدیؐ کا فیض تقسیم فرما رہے ہیں‘ وہ ہستی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ہے جو بیعت کے پہلے روز ہی تصور اسمِ اللہ ذات، سلطان الاذکار ھُو کا ذکر اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرما کر طالبِ مولیٰ کا نبویؐ طریق پر تزکیہ فرماتے ہیں اور پھر اسمِ محمدؐ کے ذریعے مجلسِ محمدی ؐکی حضوری دلاتے ہیں سبحان اللہ ۔ آپ مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کا مل ہیں اور جس طرح سے آپ طالبانِ مولیٰ کو فقر ِ محمدیؐ عطا فرما رہے ہیں اس کی مثال ممکن نہیں۔ آپ کوبے بہا فروغِ فقر ِ محمدیؐ کی بنا پربارگاہِ محمدیؐ سے سلطان العاشقین اور شبیہ غوث الاعظم اور مختلف مشائخ سلسلہ سروری قادری سے آفتابِ فقر، شانِ فقر اور سلطان السالکین جیسے القابات سے نوازا گیا۔
حاصل تحریر یہ کہ بیشک آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عطا کی کوئی حد نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ قدم قدم پر طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کا سامان پیدا فرمایا۔ اہل ِ بیت و صحابہ کرامؓ اور فقرا کاملین کی ہستیاں بھی بلاشبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا احسانِ عظیم اور عطائے فقر کا وسیلہ ہیں۔ ہم آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان عظیم احسانات کا قرض کبھی نہیں چکا سکتے۔
ایک طالب کے طور پر میں نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو عین بہ عین قدمِ محمدؐ پر پایا اور اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میرے مرشد ِ کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے جس حد تک راہِ فقر کو فروغ دیا اس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس مقصد کی خاطر بیشمار کتب بھی تصنیف فرمائیں اور کئی ویب سائٹس، سوشل میڈیا فورمز اور ویب ٹی وی چینلز کے ذریعے تعلیماتِ فقر کو دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں۔
آپ سب کو ایسے عظیم مردِ کامل کی صحبت کی دعوتِ عام ہے تاکہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خرانہ فقرکو پا کر ہم اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار سکیں۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو عطائے عظیم کر دی اب ہم پر ہے کہ ہم کب کتنا اور کیا پاتے ہیں کیونکہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی، خواہش کی، چاہت کی، طلب کی کیونکہ حدیث مبارکہ ہے:
٭طَلْبَ الْخَیرِِ طَلْبَ اللّٰہِ وَذِکْرُ الْخَیْرِ ذِکْرُ اللّٰہ
ترجمہ: ’’بہترین طلب اللہ کی طلب ہے اور بہترین ذکر اللہ کا ذکر ہے۔‘‘ 

طالبِ مولیٰ کو حضرت سلطان باھُوؒ مرد کہہ کر مخاطب فرماتے ہیں۔ طالب ِ مولیٰ کا انعام خود اللہ کی ذات ہے۔ صادق طالبِ مولیٰ کو کوئی چیز قرار نہیں دے سکتی ماسویٰ خود اللہ کی ذات کے۔
جو شخص بھی صدق و اخلاص سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب و دیدار کی آرزو کرتا ہے اسے فقر ِ محمدیؐ کی راہ دکھائی جاتی ہے کیونکہ فقرِ محمدیؐ عین ذاتِ حق کے قرب و دیدار و معرفت کی راہ ہے۔ بقول اقبالؒ:

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ ’’روحِ قرآنی‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں